بیجنگ،9؍ستمبر(ایس او نیو؍آئی این ایس انڈیا)چین اور پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی سے قطع نظر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ گزشتہ 16برس سے جاری اس تنازعے کے حل کی راہ نکالی جا سکے۔پاکستان کے نئے وزیر خارجہ خواجہ آصف اپنے اولین غیر ملکی دورے پر چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچے ہیں۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ چین اپنے انتہائی قریبی دوست پاکستان کے پیچھے مضبوطی سے کھڑا ہے، چاہے کچھ ممالک اسلام آباد کو دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ پر وہ کریڈٹ نہیں دیتے جس کا وہ حق دار ہے۔ یہ دراصل امریکا کی طرف اشارہ تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے ہاں دہشت گردوں کو پناہ دینے کی قیمت چکانا ہو گی۔ ٹرمپ کے بقول اب یہ بات بالکل برداشت نہیں کی جائے گی کہ پاکستان میں انتہا پسندوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ہم منصب اور میزبان وانگ ژی نے کہا کہ امریکا کی طرف سے افغانستان میں ہزاروں مزید فوجی تعینات کرنے کے فیصلے کے باوجود چین، پاکستان اور افغانستان رواں برس اعلیٰ سطحی مذاکرات کریں گے تاکہ بذریعہ مذاکرات افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسلام آباد دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ امریکا پاکستان کی امداد بند کر دے گا۔پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کرنے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور الزام عائد کرتا ہے کہ امریکا پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزارہا انسانوں جانوں کی قربانی اور کئی بلین ڈالرز کے نقصانات اٹھانے کو نظر انداز کر رہا ہے۔اسی حوالے سے وانگ ژی کا کہنا تھا، پاکستان کی حکومت اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور یہ کوششیں اور قربانیاں ہر ایک پر واضح ہیں۔ وانگ ژی کا مزید کہنا تھا، بین الاقوامی برادری کو اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے۔۔۔ اور پاکستان کو اس کا مکمل کریڈٹ دینا چاہیے جس کا وہ حقدار ہے۔